اللہ کہاں ہے؟ کی منزل بعد میں آتی ہے۔ ابھی میرے موضوعات ـ میں کہاں ہوں‘‘ تک محدود ہیں۔ ہم انسانوں نے سب سے بڑی غلطی یہی کی ہے کہ ہم عرفانِ نفس کے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔
میں کہاں ہوں، ہم کہاں ہیں، میری اوقات کیا ہے، شروعات کیا ہے، میرا نظام کیا ہے، میں کہاں سے آیا؟ میں کیسے پیدا ہو گیا؟ میں کیسے مر جاتا ہوں؟ ماں باپ کیا ہیں؟ رشتے تعلقات یہ سب کیا ہے؟ کامیابی کیا ہے؟ ناکامی کیا ہے؟ آپ بس یہ سوچنا شروع کر دو کہ ’’انسان کیا ہے‘‘ انسان کہاں ہے ۔۔۔ تو جواب ملنا شروع ہو جائیں گے کہ اللہ کہاں ہے۔
اپنے موجودہ زمان و مکان کا ادراک کئے بغیر جب ہم لامکانی موضوعات کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم تھک ہار جاتے ہیں۔
اپنے آپ کو پہچانیں۔ یہی راز ہے۔ جنہیں یہ راز جس قدر مل جاتا ہے وہ اسی قدر جان لیتے ہیں کہ ’’ اللہ کہاں ہے۔‘‘
جو نظر آتا ہے، اُس پر غور کریں تو آپ کے لئے وہ راستے روشن کر دیئے جائیں گے جو بظاہر نظر نہیں آتے ۔ منظورِ نظر ہوئے بغیر نظارے چہ معنی دارد؟
انسانی نطفہ کیا ہے؟ گندے پانی کے حقیر قطرے کس طرح ’میں اور آپ‘‘ بن جاتے ہیں۔ اشرف المخلوقات ہونا کیا ہے؟ تخلیق بذات خود کیا شے ہے؟ مخلوقات کہاں سے آئی ہیں؟ کیسے چل رہا ہے نظام ہستی؟ یہ رنگ کیا ہیں؟ حسن کیا ہے؟ عشق کیا ہے؟ محرومی کیا ہے، حاصل کیا؟ وصل کیا ہے فراق کیا؟
زوال کسے کہتے ہیں؟ عروج کیا ہے؟
علم کیا ہے، جہالت کیا؟ روشنی ، نور یہ سب کیا ہے؟
عدم اور وجود کیا ہیں؟
ہم سے پہلے کون تھے؟
ہمارے بعد کون ہوں گے؟
انہوں نے کیا کچھ نہ کیا، کہاں گئے اُن کے مکانات؟
وہ چلے گئے۔ غائب ہو گئے۔ باقی کیا رہا؟
تو جو باقی رہا، وہ اسلوب کیا تھا؟
وہ نصاب کیا تھا جو فنا نہیں ہوا؟
جو مٹ گیا، اُسے چھوڑ دیں۔ جو باقی ہے، وہ سمجھ لیں۔
میں اور آپ ابھی باقی ہیں۔ کیا ہم نے ہمیشہ باقی رہنا ہے؟
بس یہ سوچو کہ آپ کہاں ہو؟ میں کہاں ہوں؟ باقی سب کچھ اپنے آپ سمجھ میں آتا جائے گا۔ باہر مت ڈھونڈو ۔ اپنے اندر ڈھونڈو۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے گا۔ ضرور ڈھائے گا۔
سوال بہت اچھا ہے کہ ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ جواب صرف اتنا ہے کہ ’’میں کہاں ہوں؟‘‘ اپنے ہونے کا ادراک ہی دوسروں کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ اگر میں ہی موجود نہیں تو پھر کسی اور وجود کی بات کیا کرنا؟ اور اگر میں موجود ہوں تو پھر کوئی اور بھی ہو گا جو مجھے یہاں لایا۔ اب وہ میرے والدین ہیں اساتذہ ہیں گرو ہیں مرشد ہیں یا پیغمبر ہیں۔ تو سلسلہ در سلسلہ ہمیں سوچنا ہے۔ کڑی سے کڑی ملانی ہے۔ اجزائے ترکیبی کو آپس میں ملانا ہے۔ یہی عرفان نفس کی مزیدار ہانڈی کا مجرب نسخہ ہے۔ اسلاف تو یہاں تک سبق دیتے ہیں ۔۔۔ کہ جسے تم اللہ کہتے ہو ۔۔۔۔ وہ تو بس نام ہے جو تم نے سن رکھا ہے یا اُس کے بارے میں پڑھ رکھا ہے ۔۔۔۔ اگر تم کسی ایسے ماحول میں ہوتے جہاں نام مختلف ہوتا تو کیا وہ اللہ کچھ اور ہوتا؟ تو گویا ۔۔۔۔ اللہ وہ نہیں جو ماحول نے آپ کو دیا ۔۔۔ اللہ کسی کی دین نہیں ۔ ہم کسی اور کی دین ہیں۔ ہم کیا ہیں؟ جب ہمیں اپنے ہونے کی سمجھ آ گئی، تو پھر ہم جس کے ہیں اُس کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
اگر میری ذات میں جھوٹ غالب ہے تو یقینی طور پر میرا ذاتی تصور خدا جھوٹ پر مبنی ہو گا۔ اور ہم یہ کیسے مان سکتے ہیں کہ خدا جھوٹا ہے؟ گویا ۔۔۔۔ جب تک انسانی نفس پر نکھار نہیں آتا ۔۔۔ وہ لطافتوں سے ہمکنار نہیں ہوتا، اُس کا تصور خدا نکھر کر سامنے نہیں آ سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس زمین پر ایک ایسے صادق اور امین انسان ﷺ کا احسان ماننا پڑتا ہے جس کے بارے میں نہ ماننے والوں نے بھی گواہی دی کہ وہ ﷺ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اور بقول استاد محترم واصف باصفا ’’ سچ وہی جو سچے کی زبان سے نکلے‘‘ تو سچے ﷺ نے بتایا کہ اللہ احد ہے ۔ اللہ الصمد ہے۔ اللہ لم یلد ولم یُولد ہے۔ تو یہ سچ ہم پر اُسی وقت آشکار ہو گا جب ہم سچے ﷺ سے جڑیں گے۔ اب وہ سچا ﷺ انسان ہمارے لئے محور و مرکز ہے۔ گویا جب ہم اُن سے جڑتے ہیں تو ایک انسان دوسرے انسان سے جڑتا ہے۔۔۔ لیکن ظاہر ہے اُن سے تو مسلمان ہی جڑیں گے ۔۔۔۔
جو کلمہ گو نہیں، Where will he or she go تو پھر؟ دوسرے کیا کریں؟ بس وہ بھی غور کریں ۔۔۔۔ اپنے بارے میں ۔۔۔۔ اور کسی ایسی ہستی کی تلاش میں نکلیں جو اُنہیں سچ سے ملا دے ۔۔۔ اور سچ سے کوئی سچا ہی ملاتا ہے۔۔۔ اور اگر میں ہی جھوٹا ہوں ۔۔۔ تو مجھے سچا گرو کیسے مل سکتا ہے؟ اور اگر مل بھی گیا تو وہ اُس کے سچ کا مجھ پر کیا اثر ہو گا؟ یعنی ہمیں اپنے بارے میں ہی متفکر ہونا ہے ۔ اپنے آپ کو ہی سنوارنا ہے ۔۔۔ اپنی اصلاح کرنی ہے ۔۔۔ جہاں سے ملے، حکمت لے لو۔ علم لے لو۔ روشنی کرو۔۔۔۔ ہم جس قدر منور و تاباں ہوتے جائیں گے، اسی قدر حقیقی عرفان نصیب ہوتا جائے گا۔
میرے اور آپ کے پاس جس قدر تصور خدا ہے اگر یہ ماحول کی دین ہے تو انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔۔ ایک ایسا ماحول جس پر کفر و ظلمت کا غلبہ ہو وہ ہمیں حقیقی تصور دے سکتا ہے؟ گویا ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات کا ادراک حاصل کرنا ہو گا ۔۔۔۔ ہم جس قدر نکھار کے ساتھ نبی پاک ﷺ سے جڑیں گے اُسی قدر ہمیں الوہی ادراک عطا ہو گا۔ اسی نکھار کا ایک نام تقویٰ ہے۔ جو شرطِ اول ہے قرآن سے ہدایت لینے کی ھدی اللمتقین کا یہی فلسفہ ہے۔ فرض کرو میں اور آپ مسلمان گھرانے میں پیدا نہ ہوتے، تو کیا ہمارا خدا کا تصور وہی ہوتا جو اب ہے؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ گویا ہمارا تصور بدلتا تو کیا خدا بدل جاتا؟ اور جو بدل جائے کیا اُسے خدا کہا جا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ریسرچ کی تھی ۔۔۔ سورج ڈوب گیا ۔۔۔ چاند چھپ گیا۔۔۔ آگ بجھ گئی ۔۔۔۔ اور سوچا۔۔۔ نہیں جو غروب ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ جو ڈوب جائے وہ میرا رب کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ جو بجھ جائے وہ میرا اللہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ اس لئے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم جس ہستی کو خدا کہتے ہیں، یہ تصور ہم تک کیسے پہنچا؟ ماحول کے زیر اثر پہنچا ؟ تو پھر خدا کے مختلف تصورات کی گنجائش نکالنا ہو گی ۔ دنیا میں بہت سے ماحول ہیں۔ جبکہ خدا ایک ہے۔ اور یہ ایک ہونا ہمارا تصور ہے۔ قرآنی تصور ہے۔ تو اب اگر ماحول کے زیر اثر کوئی کہے کہ خدا اور بھی ہیں تو کیا اس بندے کو مار دیا جائے؟ نہیں ظاہر ہے وہ اپنے ماحول کے ساتھ انصاف کرنے کا اتنا ہی پابند ہے جس قدر ہم اپنے ماحول کے زیر اثر یہ کہنے کے پابند ہیں کہ اللہ ہے، اور ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں ۔۔۔۔ اس لئے تمام اسلاف کہتے ہیں کہ پہلے اپنے بارے میں طے کر لو کہ ’تم کون ہو۔‘‘ ماحول سے باہر نکلو ۔۔۔ نکھار پیدا کرو ۔۔۔ اپنے آپ کو سنوارو ۔۔۔۔ کہ بگڑی ہوئی شخصیات اور تباہ حال نطریات کبھی خدا کے تصور کی حقانیت تک نہیں پہنچ سکتے ۔ اس لئے اپنے آپ پر محنت کرو۔ ہم بہت بڑی آیت ہیں ۔۔۔۔
اُن سے جڑو جو آپ کو جوڑتے ہیں تو آپ اُس سے جڑ جاؤ گے جو کائنات کے تمام اجزائے ترکیبی کو رحم و کرم سے جوڑ کے رکھتا ہے ۔ ہم ایک عظیم نشانی ہیں ۔۔۔ اور ہمارے وجود میں نشانیاں ہی نشانیاں ۔۔۔۔ کوشش کریں کہ پہلے اپنی ذات کا عرفان عطا ہو جائے ۔۔۔۔ بس یہی سبق کافی ہے ۔۔۔۔
اللہ کہاں ہے؟
جہاں ہم ہیں ۔یہی موضوع ہے اور یہی مراد کہ جو ہے وہ اندر ہی ہے۔ اندر روشنی ہو گئی تو خارج میں اُجالے ہوں گے ۔ احساس کی داخلی معراج ہی درحقیقت خارجی معراج کی راہیں روشن کرتی ہے۔ ہم انسان جب تک اپنی تلاش سے غافل رہتے ہیں ہم کامل ذمہ داری کے ساتھ خالق و مالک کی تلاش کے سفر پر نہیں نکل سکتے۔ نکل بھی پڑے تو بھٹک جائیں گے۔ گمراہ ہو جائیں گے اور عین ممکن ہے ہم کسی اور کو تلاش کر لیں۔ جہاں میں ہوں، وہ جہان کون سا ہے؟ اور جو میرا جہان ہے، وہ میرا کیوں ہے؟ اور جو میرا ہے وہ کیا صرف میرا ہے؟
مدیحہ کیا ہے؟ اعتزاز کیا ہے؟ ہم کیا ہیں؟ بس یہ سوچنا ہے۔ یہی ہماری ذمہ داری ہے۔
یہ مت سوچو کہ ’’اللہ کیا کر سکتا ہے؟‘‘ یہ سوچو کہ ’’ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ یہ مت ڈھونڈو کہ اللہ کہاں موجود ہے۔ یہ تلاش کرو کہ ہم کہاں موجود ہیں؟
منزل کہاں ہے؟ جہاں مسافر کے قدم اُٹھ رہے ہیں، جس سمت بڑھ رہے ہیں، منزل بھی وہیں کہیں ہو گی ۔ مسافر اپنے سفر پر اور اپنے قدموں پر غور کر لے ۔ بس اتنا کافی ہے۔ ہم سے پہلے جو ہو گزرے، وہ مسافر کہاں گئے؟ کن منزلوں تک جا پہنچے؟ ہمارا سفر کیا ہے؟ ہم اس دنیاوی سفر میں کن منزلوں تک پہنچتے ہیں؟ کیا آج تک کوئی ایسا مسافر بھی ہے جو منزل تک نہ پہنچا ہو؟ فنا کی منزل میں عظیم فلسفہ ہے۔ اصل بقا یہی یے کہ فنا کا ادراک ہو جائے۔
تو پہلے ہم اپنے فانی ہونے کا علم حاصل کر لیں۔ جس قدر ملے۔ جہاں سے ملے۔ جب ہم فنا کے قریب ہو جائیں گے، بقا کے قریب ہو جائیں گے۔ ابھی تو ہمیں فنا ہونے کا ہنر نہیں آیا۔
من میں ڈوبنا ہی افضل و معتبر ہے۔ ابھی یہ طے مت کریں کہ کوئی ایسی ذات ہے جو مجھے پیدا ہونے سے پہلے بھی جانتی تھی ۔ ابھی یہ طے کر لیں کہ آپ کون ہیں؟ آپ اپنا نام رکھیں ۔ اپنی ہستی کی پہچان کریں ۔ انسان، انسانوں پر غور کریں ۔ انسانی معاملات کی تفہیم ہی الوہی معاملات کی تفہیم کا صراط مستقیم ہے۔ علی حسن کو اپنے بارے میں غور کرنا ہے ۔ وہ اتنی بڑی کائنات میں عبث تو نہیں آ گیا۔ وہ آیا ہے تو کہاں آیا ہے؟ اور جہاں آیا ہے، وہاں کیوں آیا ہے؟ آنے سے پہلے یہاں کیا تھا؟ اُس نے یہاں آ کر کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیئے؟ اُس سے پہلے جو یہاں آئے وہ اب کہاں ہیں؟ اُنہوں نے یہاں ایسا کیا کہ وہ یہاں سے جا کر بھی یاد رکھے گئے؟ اور جو یاد رہے، اُن کی یاد خوشگوار ہے کہ ناگوار؟ اور کیا علی کسی خوشگوار یاد کا خالق ہے کہ نہیں؟ علی کو جانے کے بعد کیسے یاد رکھا جائے گا؟ اور سب سے بڑی بات کہ علی نے بھی تو جانا ہے۔ اور کہاں جانا ہے؟ گویا اس سے قبل کہ آپ یہ سوچو کہ کہاں جانا ہے، پہلے اس بات کا تعین کر لو کہ آئے کہاں سے ہو ۔۔۔اور کیوں آئے ہو ۔۔۔۔ انسانوں کی اس بستی میں دوسرے انسانوں سے کیا تعلق ہے؟ ذمہ داریاں کیا ہیں؟ حقوق و فرائض کیا ہیں؟ ریاستیں کیوں وجود میں آئیں؟ انسانی بستیاں کیوں بنتی چلی گئیں؟ بستیاں اُجڑیں تو کیسے اُجڑیں؟ کوئی ترقی کر گیا ، کسی کا مقدر تنزلی کی سزا پا گیا، تو یہ سب کیوں ہوا؟ کس نے کیا؟ میرے ساتھ کیا ہو گا؟ اور جو ہو گا، اُس میں میرا کردار کیا ہو گا؟ یہی ہے ’’ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی‘‘ اپنے بارے میں غور ہی صراط مستقیم ہے ۔ جب تک انسان اپنے نفس کی ماہیت نہیں سمجھتا، وہ نا سمجھ رہتا ہے۔ وہ جو کہے گا، کتابی بات ہو گی ۔ اور کتابیں تو سب کے پاس ہیں۔ تو گویا جھگڑا ہو گا۔ ضد پیدا ہو گی۔ ایک کتاب دوسری کتاب کو مارے گی۔ قتل کرے گی۔ فساد فی الارض کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ مسائل ہی مسائل، مشکلات ہی مشکلات ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے ہر انسان اپنے بارے میں غور کرے ۔ اپنی ذات کا عرفان ہی وجدان کی راہیں آسان کرتا ہے۔ خود کو جانے بغیر خدا کو جاننا ایسے ہی ہے جیسے آپ کال ملائے بغیر یا کال ریسیو کئے بغیر فون کانوں سے لگا لیں اور ہیلو ہیلو کرنا شروع کر دیں۔ اپنے من میں ڈوب جاؤ۔ ہر بتانے والے نے یہی بتایا تھا۔ ابلیسی قوتیں یا توجہ ہٹانے والا ماحول ہمیشہ اندر سے باہر نکال دیتا ہے۔ اندر ہی راز ہے ۔ جب تک اندر کے راز سمجھ سے باہر ہیں تب تک باہر کے راز محض خطیبانہ جوش۔ اور کچھ نہیں۔
اللہ بہت بڑا ہے۔ سب سے بڑا ہے ۔ یہ ہم کہتے آ رہے ہیں اور اس کے باوجود ہمارا تفکر بے لذت ہے؟ چونکہ ابھی ہمیں اپنی بڑائی کا ہی احساس نہیں۔ جب میں جان لوں گا کہ میں کتنا بڑا ہوں تب مجھے اپنے سے کسی بڑے کا احساس ہو گا۔ اور پھر جو سب سے ؓرا ہے اُس کا احساس لذت والا ہو گا۔
ابھی تو عرفانِ نفس کے مراحل ہیں ۔
طے کرتے جاؤ ۔
بڑے ہوتے جاؤ پھر سب سے بڑے کا تصور اپنی بھرپور معنویت کے ساتھ سامنے آئے گا۔
ہم انسانوں میں بہت سے بڑے ہیں۔ اُنہیں ماننے کی عادت سب سے بڑی ذات پر ایمان کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اگر میں خود کو سب سے بڑا سمجھنے لگ گیا تو پھر کیا ہو گا؟ یہاں سے مسکینی اور عجز کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ہم اتنی بڑی کائنات میں ایک چھوٹے سے نقطۂ زمین پر موجود ایک باشعور نطفہ ہیں۔ نطفہ ایک نقطہ ہے۔ نقطے ملاتے جائیں تحریر ابھرتی جائے گی۔
ہم جس ماحول کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔
ہماری جو بھی ذہنی و قلبی کیفیت ہوتی ہے۔
یا ہماری طبعی و عرفانی عمر کا جو بھی مقام ہوتا ہے، ہم اُسی کے مطابق خداشناسی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
جو کنویں میں ہے، اُس کے نزدیک آسمان کا تصور بس اتنا ہی ہے جتنا کنویں سے دکھائی دیتا ہے۔
بیمار کے لئے بہار کا تصور وہ نہیں جو صحت مند کے لئے ہے۔ اور اگر تصور ایک سا بھی ہو تو لذت مختلف ہو گی ۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ آنکھوں والے اور بغیر آنکھوں والے برابر نہیں ہو سکتے ۔
جاننے والے اور نہ جاننے والوں کا کیا مقابلہ یا مقابل؟
جو روشنی میں ہے اور جو نور میں ہے وہ مختلف کیفیات کے زیرِ اثر ہے ۔۔۔
ایک شیر خوار سے پوچھو محبت کیا ہےَ؟ وہ کیا بولے گا اور کیا وضاحتیں کرے گا کہ ابھی اُس تک لفظوں کی ترتیب ہی نہیں پہنچی ۔ ابھی وہ اظہار کی منزل تک پہنچا ہی نہیں۔
لیکن کیا محبت اُس تک نہیں پہنچی؟ وہ تو پہنچ چکی ۔
محبت تھی تو وہ اب تک زندہ ہے ۔
اور اُس کے نزدیک یہی محبت ہے کہ ایک ہستی اُسے دودھ پلاتی ہے۔ بوسے دیتی ہے۔ چومتی چاٹتی ہے۔
اور یہ محبت جانوروں کی دنیا میں بھی ہے۔
بالکل ایسی ہی محبت ۔
اب کسی چھوٹے بچے سے پوچھو زندگی کیا ہے؟ تو کیا جواب ہو گا اُس کا؟
زندگی لاڈ کا نام ہے۔
دوستوں کا نام ہے
شرارتوں کا نام ہے ۔۔۔
اب کسی جوان سے پوچھو محبت اور زندگی کیا ہے؟
تو کیا جواب ملے گا ۔۔۔۔۔
جس کا جیسا تجربہ اور مشاہدہ تھا، بالکل ویسا ہی جواب ۔۔۔۔
کسی کو محبوب کا زمینی وصل مل گیا تو محبت وصل ہے ۔۔۔ کوئی بچھڑ گیا تو محبت سب سے بڑا روگ ۔۔۔۔
گویا تجربات و مشاہدات ہمارے اظہار پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔۔۔۔
خدائی پر اور اپنی خودی پر غوروفکر ہمارے ’’خود‘‘ کو خدا شناس کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں اُس ’’خود‘‘ کی منزل سے بے خودی کی راہ بھی دکھا دیتا ہے۔
تو جو کرنے والا کام ہے وہ کرتے جاؤ۔
جو ہونے والا کام ہے وہ ہوتا جائے گا۔
اللہ اکبر ۔